باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ
پیسا ہاتھوں کی میل ہے۔۔۔
لیکن بھائی باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ
یعنی ہاتھوں کی میل المعروف روپیہ باپ اور بھائی سے بڑا
میرے بھائی پیسہ ہاتھوں کی میل ہے۔۔۔ درست
لیکن اگر ہاتھ میلے نا ہوں تو۔۔۔
یہ میل دماغ پر آ جاتی ہے۔۔۔
دماغ کی ان پٹ مثبت نہیں رہتی اور آؤٹ پٹ بھی منفی ہو جاتی ہے۔۔۔
یعنی پیسا ہے تو کوئی شک نہیں تمام رشتے آپ کو محترم سمجھتے ہیں
لیکن جیسے ہی پیسا گیا ۔۔۔ تو سایا بھی سلام دعا سے گیا۔۔۔
المیہ ہے۔۔۔
اس معاشرے میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اٹھا لین دنیا بھر کے
معاشروں میں ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی صلاحیت ہی عوام کے لئے فرد
کو قابل عزت بناتی ہیں۔۔۔
جمشید کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے ۔۔۔ بہن کی شادی ہے
اور اس کے والد نے اس سے پیسے مانگے ہیں۔۔۔ بیچارے کنگال ہے روز کی روز
کماتا ہے اور کھاتا ہے۔۔۔ پہلے محرم کے بعد شادی کی تاریخ طے ہوئی تھی ۔۔۔
مگر اب لڑکے والوں کا اصرار ہے کہ محرم سے پہلے ہی رخصتی ہو۔۔
جمشید کے باپ نے تیس ہزار کا تقاضہ کیا تھا جو اس نے وعدہ کیا کہ محرم سے پہلے کما کر دے دے گا۔۔۔
ابھی اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔۔۔ باپ جانتا ہے۔۔۔
جانتے ہوئے بھی کل جمشید کے والد نے اسے بھرے بازار میں
مارنے کی کوشش کی۔۔۔ اور ذلیل کیا کہ وہ بھائی اور باپ ہونے کا حق ادا
نہیں کر رہا ۔۔۔ اس لئے وہ اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔۔
جمشید کا باپ فوج سے ریٹائیرڈ حوالدار ہے۔۔۔ جس نے
گاؤں کے ماحول میں آنکھ کھولی۔۔۔ پھر دستور کے مطابق فوج میں بھرتی ہو
گیا۔۔۔ فوج سے فراغت کے بعد جو پیسے ملے وہ زندگی کی کسکین اور خواہشات
پوری کرنے میں لگا دین۔۔۔
جوا کھیلا، مجرے دیکھے۔۔۔ اور جو ملا تھا لٹا دیا۔۔۔
غریب آدمی کی بھی عجیب ذہنیت ہوتی ہے۔۔۔ چھوٹی چھوٹی
آرزویں۔۔۔ جو بے چین رکھتی ہیں۔۔۔ تنگی کی وجہ سے حالات سے بغاوت کا جزبہ
۔۔۔ جو پیسہ آتے ہی ان آرزؤن کی تکمیل کے لئے شدت پسندی کی طرف لے جاتا
ہے۔۔۔ جس کے بعد پھر ۔۔۔تنگی اور انتہائی کڑوا پچھتاوا
جمشید کے والد کے ساتھ بھی یہ ہی کیفیت ہے ۔۔۔ جمشید کا
کہنا ہے کہ اس کے والد نے کچھ بنایا ہی نہیں۔۔۔ اپنی عیاشی میں ہمارا حق
بھی اڑا دیا اور اب جب ذمہ داریاں پوری کرنے کا وقت آیا ہے تو ہر کسی سے
لڑتا پھر رہا ہے ۔۔۔
حمید صاحب کی کہانی اس سے بالکل مختلف ہے۔۔۔ ایک زمیندار
گھرانے سے تعلق رکھنے والے حمید صاحب انیس سو ستر کے اواخر میں ہی ہی
امریکہ چلے گئے۔۔۔ وہاں ایک امریکی عورت سے شادی کی اور خواب سی زندگی
گزارنے لگے۔۔ اپنا اسٹور تھا اور اچھا خاصا کاروبار۔۔۔ بیوی بھی حسن بے
مثال۔۔۔ پاکستان کیا چھوڑا سب کچھ ہی چھوڑ بیٹھے۔۔۔
عمر ڈھلتی گئی ۔۔۔ پھر ایک روز اٹھے تو بیٹے اور بیوی کو، انھیں آولڈ ہوم بھیجنے کی بات کرتے سنا۔۔۔
حمید صاحب کی آنکھین پر نم ہو گئیں۔۔۔ اولاد نے زور دینا
شروع کر دیا کہ آپ کا سہی خیال اولڈ ہوم میں رکھا جائے گا ۔۔ ان کے پاس
ٹائم نہیں جو حمید صاحب کا خیال رکھ سکیں۔۔
حمید صاحب کو کئی برسوں بعد اپنے گاؤں اور رشتہ دارون کی یاد آنے لگی ۔۔ اور پھر پاکستان واپس آ گئے۔۔۔
پاکستان آ کر پتہ چلا کہ یہان تو سب کچھ بدل چکا ہے۔۔۔
ماں باپ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔ آبائی زمیں پر چچا زاد قبضہ کر چکے ہیں اور
ان کے پاس قانونی کاغذات ہیں۔۔۔ تمام قریبی خاندنی ملکیت پر ہرپ کر چکے ہیں
اور غیروں سے بد تر ہو چکے ہیں۔۔۔
آج کل وہ ہماری کالونی میں اپنے دور کے ایک رشتہ دار کے
گھر کرائے پر ایک کمرہ لے کر رہ رہے ہیں۔۔۔ کچھ دن پہلے ایک جاننے والے
کو انہوں نے 500 ڈالر کیش کرانے کے لئے دیئے۔۔۔ بقول ان کے انہیں پیسے کی
ضرورت تھی انہوں نے اپنے دور کے بھتیجے کو پانچ سو ڈالڑ دیئے۔۔۔ دوسرے دن
جب مانگے تو اس نے بتایا کہ اس کی جیب کٹ گئی تھی اور پیسے چوری ہو گئے۔۔۔
حمید صاحب کچھ کہ بھی نہیں سکتے تھے کہیں لڑکے کے ماں باپ نا راض نہ ہو
جائیں
حمید صاحب پانچ وقت کے نمازی ہیں۔۔ ایک پھٹے ہوئے ٹراوزر
اور ٹی شرٹ پہن کر آتے ہیں اور اپنے عزیز کو پیسے دے کر اس کے رحم و کرم
پر زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔
دو کہانیاں ہیں۔۔۔ دو کردار ۔۔ ایک جمشید ہے اور دوسرے حمید صاحب ۔۔
ایک کو پیسے کی تنگی نے باپ سے دور کر دیا ہے ۔۔۔ تو دوسرے کو پیسے کی زیادتی نے اکیلا کر دیا۔۔
کیا تمام الزام پیسے کو ہے؟؟؟
یا جمشید کا باپ پیسے اور جوانی میں اپنی اولاد کھو
بیٹھا اور آج تمام مصائب کا ذمہ دار خود ہوتے ہوئے بھی اولاد کو دشمن
سمجھ کر کڑوی زندگی گزارنے پر مجبور۔۔۔
یا حمید صاحب جو گوری چمڑی اور افراط میں اپنے قریبیوں کو چھوڑ بیٹھے اور جب ضرورت پڑی تو وہ قریبی قریبی نہ رہے۔۔۔
ہاتھوں کی میل ، دل کی میل بنی اور پھر حسرت اور آنسو۔۔
وقار بھائی نے آج واصف صاحب کا واقعہ سنایا ۔۔کسی نے واصف صاحب سے پیسے میں برکت کی دعا کی درخواست کی
واصف صاحب نے دعا دی کہ اگر تجھے پچاس ہزار کی ضرورت ہے تو اللہ تجھے ساٹھ ہزار دے مگر کبھی ساٹھ لاکھ نہ دے۔۔۔
کسی نے پوچھا کہ یہ کیا دعا ہوئی تو انھوں نے بہت خوبصورت جواب دیا
کہ ضرورت سے بہت زیادہ مل جانا غفلت میں ڈال دیتا ہے اور انسان خود سے گم ہو جاتا ہے۔۔۔
کنواین میں رہنے والا مینڈک ایک حد سے
زیادہ نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ اس کی خواہشات اور آرزوین بھی کنواین کے مطابق
ہی ہوتی ہیں۔۔۔ جو ندی کا مینڈک ہے اور جو دریا دیکھ چکا ہے دونوں کی
سوچین بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔۔۔
کسی بھی معاشرے کی مضبوطی میں علماء اور انٹیلیکچولز
کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔۔ جو مرجھاتے ہوئے ذہنون کو آئیڈیاز کے ذریعے
زندگی دیتے ہیں اور اخلاقیات کا سبق دے کر معاشروں کو تباہی سے دور کرتے
ہیں۔۔ وہ ہی سمجھاتے ہیں کہ مادیت کے سمندر میں انسان ہمیشہ غرق ہی ہوتا
ہے۔۔۔ زندگی کا حسن اور سروائیول میانہ روی میں ہے ۔۔۔ پیسہ برا نہیں لیکن
پیسے کی حرص بری ہے۔۔ ایسا پیسہ جس کی وجہ سے اخلاقیات ختم ہو جائین صرف
غم اور پچھتاوا دیتا ہے۔۔۔ اور ایسی اخلاقیات جو چاہے پیسے کے بغیر بھی
قائم ہوں رشتوں کو پھر بھی زندہ رکھتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment