Saturday, 10 March 2012

 

Five Rules To Remember In Life

1. Money does not buy happiness, but it's a lot more comfortable to cry in a Mercedes than on a bicycle.
2. Forgive your enemies -- but make sure you remember those bastards' names.
3. Help someone when they are in trouble ...and they will remember you when they're in trouble again.
4. Many (again many) people are alive only because it's illegal to kill them.
5. Alcohol does not solve any problems. But then again, neither does milk.
and...
6. Anytime you say there is a specific number of Rules In Life, someone will instantly come up with another one.

 

Life or Death Riddle

This riddle about a harrowing life or death situation combines skill, forethought, and proves how math and physics might be used in everyday life. Would you survive this situation?
 
The Setup
You are on a horse, moving forward at a constant speed.
On your right side is a sharp drop off.
On your left side is an elephant traveling at the same speed as you.
Directly in front of you is a bounding kangaroo, and your horse is unable to overtake it.
Directly behind you is a lion, running at the same speed as you and the kangaroo.

The Question
What must you do to get out of this seemingly dangerous situation safely?
See if you can figure out the answer before scrolling down to it below.






The Answer
Get your drunk ass off that merry-go-round and go home to sleep it off.



A married couple is driving along a highway doing a steady forty miles per hour. The wife is behind the wheel.
Her husband, a divorce lawyer, suddenly looks across at her and speaks in a clear voice, "Darling," he says. "I know we've been married for twenty years, but I want a divorce."
The wife says nothing, keeps looking at the road ahead but slowly increases her speed to 45 mph.
"I don't want you to try and talk me out of it", he says, "because I've been having an affair with your best friend, and she's a far better lover than you are."
Again the wife stays quiet, but grips the steering wheel more tightly and slowly increases the speed to 55.
The husband, knowing how to get the upper hand in a divorce proceeding, "I want the house," he says insistently. Up to 60.
"I want the car, too," he continues. 65 mph.
"And," he says, "I'll have the bank accounts, all the credit cards and the boat."
The car slowly starts veering towards a massive concrete bridge. This makes him a wee bit nervous, so he asks her: "Isn't there anything you want?"
The wife at last replies - in a quiet and controlled voice. "No, I've got everything I need." she says.
"Oh, really?" he says with derision. "So what have you got?"
Just before they slam into the wall at 65 mph, the wife turns to him and smiles.
"The airbag."

Tuesday, 6 March 2012

اُس کا جانا لگا پتھر جیسا
وہ بھی شیشے پر گرا ہو جیسے

میں تمھاری قبر فاتحہ پڑھنے نہیں آیا۔۔۔
مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتیں
تمھاری موت کی خبر جس نے اُڑائی ہے
وہ جھوٹا تھا
وہ تم کب تھے
کوئی سوکھا ہوا پتا ہوا سے ہل کے ٹوٹا تھا
میری آنکھیں تمھارے مندروں میں قید ہیں اب تک
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا
تمھاری قبر پر جس نے تمھارا ناہ لکھا ہے
وہ جھوٹا تھا
تمھاری قبر میں
میں دفن ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھ میں زندہ ہو
کبھی فرصت ملے تو
فاتحہ پڑھنے چلے آنا۔۔۔۔۔
 
نرم خوئی کا حکم ہے - بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کے فعل پر ہمیں بہت غصہ آ رہا ہوتا ہے -
لیکن آپ اس کے باوجود کہ اس پہ غصہ کیا جانا چائے آپ غصہ نہیں کرتے ہیں - یہ ان کا کمال فن ہوتا ہے یا پھر وہ نان ڈگری ماہر نفسیات ہوتے ہیں-
وہ باتیں جو اب ہم میں نہیں ،،

پہلے ، اگر کھانے کےدوران ہمارا کوی نوالہ گر جایا کرتا تھا تو بزرگ کہا کرتے تھے کہ اس کو اٹھا کر بسم اللہ پڑھ کر کھا لیا جاے ،کیونکہ یہ نوالہ برکت والا تھا ،جسے شیطان نے ہاتھ مار کر گرا دیا تھا، اب یہ ہوتا ہے کہ اس کو نہ کھاو اس پر جراثیم ہیں

برکت اور شیطان تھا یا نہیں ،اسکی بحث نہیں ،لیکن ایک چیز ضرور ہوتی تھی کہ ہم لوگ رزق کا احترام کیا کرتے تھے
میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا.انتظار کرتے کرتے سو جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی. میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کودیکھا ہے.آہٹ پے لگے ہوئے کانوں کے زخموں کو دیکھا.انتظار میں کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا . منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں. ایک وہ جو مقررہ جگہ پر انتظار کرتا ہے، دوسرا وہ جو جسد خاکی سے جدا ہو کر پذیرائی کے لئے بہت دور نکل جاتا ہے. جب انتظار کی گھڑیاں دنوں،مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود،اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر سینت کے رکھ لیتے ہیں او کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے. یہ خالی ڈبا کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اپنے اندر سمیٹتا ہے، لیکن اس میں "وہ" لوٹ کر نہیں آتا جو پذیرائی کے لئے آگے نکل گیا تھا .ایسے لوگ بڑے مطمین اورپورے طور پہ شانت ہوجاتے ہیں .ان مطمئن، پرسکون اور شانت لوگوں کی پر سنیلٹی میں بڑا چارم ہوتا ہے اور انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنی پڑتی ہے.یہی چارم آپ کو سوفیا کی شخصیتوں میں نظر آے گا.یہی چارم عمر قدیوں کے چہرے پر دکھائی دے گا اور اسی چارم کی جھلک آپکو عمر رسیدہ پروفیسروں کی آنکھوں میں نظر آے گی.

Sunday, 26 February 2012

ھماری نئی نسلیں اس لحاظ سے بڑی بدقسمت ھیں کہ گھروں کے اندر کبھی قرآن کی آواز اُن کے کانوں میں نہیں پڑتی ، اور نہ وہ اپنی آنکھوں سے گھر کے لوگوں کو کبھی نماز پڑھتے ھوئے دیکھتے ھیں ۔۔۔۔
ھم اِس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ بچپن میں ھم اپنے گھروں میں قرآن کی آواز سنتے تھے اور اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے دیکھتے تھے ۔۔۔۔۔ ھمارے گرد و پیش بہرحال کچھ نہ کچھ دین کے آثار باقی تھے ۔۔۔۔۔
لیکن موجودہ نسل کی یہ بدقسمتی انتہا کو پہنچ گئی ھے کہ گھروں کی جس فضا میں وہ پرورش پا رھی ھے ، اُس میں نہ قرآن کی آواز کبھی گونجتی ھے ، نہ نماز کا منظر کبھی سامنے آتا ھے ۔۔۔۔۔
اگر ھمارے گھروں کا یہی حال رھا اور نسلیں اسی طرح غلط تربیت حاصل کرتی رہیں ، تو جب زندگی کی باگ ڈور ان کے ھاتھوں میں آئے گی ، اُس وقت شاید اسلام کا نام بھی باقی نہ رہ سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(سیّد ابوالاعلٰی مودودی رح ، دین اور خواتین )

اس کا نام فلیمنگ تھا اور وہ ایک غریب سکاٹش(سکاٹ لینڈ کا رہنے والا) کسان تھا۔ ایک دن جب وہ اپنے گھر میں کام کر رہا تھا تو اسے اپنے گھر کے قریب موجود دلدل میں سے مدد کی پکار سنائی دی۔ وہ دلدل کی طرف بھاگا۔ وہاں ایک خوفزدہ لڑکا کمر تک دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ وہ چیخ رہا تھا اور دلدل سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کسان فلیمنگ نے اس لڑکے کو اس خوفناک موت کے چنگل سے نکال لیا۔
اگلے دن ایک بہت خوبصورت بگھی کسان کے دروازے پر رکی اور ایک بہت مہذب اور امیر آدمی اس سے اترا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس بچے کا باپ ہے جسے گزشتہ روز فلیمنگ نے بچایا تھا۔
امیر آدمی نے کسان فلیمنگ سے کہا

"تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے، میں تمہیں اس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں"

کسان فلیمنگ نے جواب دیا

"نہیں میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کی قیمت نہ لوں گا"

اس وقت کسان فلیمنگ کا اپنا بیٹا بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
امیر آدمی نے کسان سے پوچھا

"کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟"

کسان نے جواب دیا

"جی ہاں"

امیرآدمی نے کہا
"میں آپ سے ایک ڈیل (معاہدہ) کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے بچے کو اپنے بیٹے کے برابر تعلیم دلوا دوں۔ اگر اس میں اپنے باپ کی کوئی خوبی موجود ہوئی تو مجھے یقین ہے ایک دن یہ اس مقام پر پہنچ جائے گا جہاں ہم دونوں اس پر فخر کریں گے"

اور اس بچے نے ایسا ہی کیا جیسی اس سے توقع تھی۔

کسان فلیمنگ کے بیٹے نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور سینٹ میری ہسپتال میڈیکل سکول لندن سے گریجوئیٹ کیا۔ اور پھر اس نے کے بعد وہ دنیا میں ایک شہرہ آفاق سائنسدان سر الیگزنڈر فلیمنگ کے نام سے مشہور ہوا جس کی بہت بڑی ایجاد پنسلین تھی۔

کئی سالوں کے بعد امیر آدمی کے اسی بیٹے کو (جس کو کسان فلیمنگ نے دلدل سے بچایا تھا) نمونیا ہو گیا۔ اور اس کی جان پنسلین نے بچائی۔

اس امیر آدمی کا نام تھا

لارڈ رینڈولف چرچل

اور اس کے بیٹے کا نام تھا

سر ونسٹن چرچل

(سابق وزیر اعظم برطانیہ اور انگریزی ادب کا ایک بڑا نام)



وہ ایک خط جو تو نے کبھی لکھا ہی نہیں،
میں روز بیٹھ کر اسکا جواب لکھتی ہوں ۔۔!!!

ستاروں سے آگے_______________- قرۃ العین حیدر

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کردیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہو چکی تھی کہ اسے خوف ہو چلا تھا کہ کہیں وہ سچ مچ اس خواہ مخواہ کی نفرت و بیزاری کا اعلان نہ کر بیٹھے اور کامریڈ کرتار ایسا سویٹ ہے فوراً برا مان جاۓ گا۔ آج کے بیچ میں اگر وہ شامل نہ ہوتا تو باقی کے ساتھی تو اس قدر سنجیدگی کے موڈ میں تھے کہ حمیدہ کو زندگی سے اکتا کر خود کشی کر جاتی۔ کرتار سنگھ گڈو گراموفون تک ساتھ اٹھا لایا تھا۔ ملکہ پکھراج کا ایک ریکارڈ تو کیمپ ہی میں ٹوٹ چکا تھا، لیکن خیر۔

حمیدہ اپنی سرخ کنارے والی ساری کے آنچل کو شانوں کے گرد بہت احتیاط سے لپیٹ کر ذرا اور اوپر کو ہو کے بیٹھ گئی جیسے کامریڈ کرتار سنگھ کے ماہیا کو بے حد دلچسپی سے سن رہی ہے لیکن نہ معلوم کیسی الٹی پلٹی الجھی الجھی بے تکی باتیں اس وقت اس کے دماغ میں گھسی آرہی تھیں۔ وہ ”جاگ سوزِ عشق جاگ“ والا بیچارہ ریکارڈ شکنتلا نے توڑ دیا تھا۔

”افوہ بھئی۔“ بیل گاڑی کے ہچکولوں سے اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا اور ابھی کتنے بہت سے کام کرنے کوپڑے تھے۔ پورے گاؤں کو ہیضے کے ٹیکے لگانے کو پڑے تھے۔ ”توبہ!“ کامریڈ صبیح الدین کے گھونگریالے بالوں کے سر کے نیچے رکھے ہوۓ دواؤں کے بکس میں سے نکل کے دواؤں کی تیز بو سیدھی اس کے دماغ میں پہنچ رہی تھی اور اسے مستقل طور پر یاد دلاۓ جارہی تھی کہ زندگی واقعی بہت تلخ اور ناگوار ہے.... ایک گھسا ہوا، بیکار اور فالتو سا ریکارڈ جس میں سے سوئی کی ٹھیس لگتے ہی وہی مدھم اور لرزتی ہوئی تانیں بلند ہو جاتی تھیں جو نغمے کی لہروں میں قید رہتے رہتے تھک چکی تھیں۔ اگر اس ریکارڈ کو، جو مدتوں سے ریڈیو گرام کے نچلے خانے میں تازہ ترین البم کے نیچے دبا پڑا تھا، زور سے زمین پر پٹخ دیا جاتا تو حمیدہ خوشی سے ناچ اٹھی۔ کتنی بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو وہ چاہتی تھی کہ دنیا میں نہ ہوتیں تو کیسا مزہ رہتا.... اور اس وقت تو ایسا لگا جیسے سچ مچ اس نے "I dream I dwell in marble halls."والے گھسے ہوۓ ریکارڈ کو فرش پر پٹخ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور جھک کر اس کی کرچیں چنتے ہوۓ اسے بہت ہی لطف آرہا ہے۔ عنابی موزیک کے اس فرش پر، جس پر ایک دفعہ ایک ہلکے پھلکے فوکس ٹروٹ میں بہتے ہوۓ اس نے سوچا تھا کہ بس زندگی سمٹ سمٹا کے اس چمکیلی سطح، ان زرد پردوں کی رومان آفرین سلوٹوں اور دیواروں میں سے جھانکتی ہوئی ان مدھم برقی روشنیوں کے خواب آور دھندلکے میں سما گئی ہے، یہ تپش انگیز جاز یونہی بجتا رہے گا، اندھیرے کونوں میں رکھے ہوۓ سیاہی مائل سبز فرن کی ڈالیاں ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکوں میں اس طرح ہچکولے کھاتی رہیں گی اور ریڈیو گرام پر ہمیشہ پولکا اور رمبا کے نۓ نۓ ریکارڈ لگتے جائیں گے۔ یہ تھوڑا ہی ممکن ہے کہ جو باتیں اسے قطعی پسند نہیں وہ بس ہو تی ہی چلی جائیں.... ریکارڈ گھستے جائیں اور ٹوٹتے جائیں۔
....لیکن یہ ریکارڈوں کا فلسفہ کیا ہے آخر؟ حمیدہ کو ہنسی آگئی۔ اس نے جلدی سے کرتار سنگھ کی طرف دیکھا۔ کہیں وہ یہ نہ سمجھ لے کہ وہ اس کے گانے پر ہنس رہی ہے۔
کامریڈ کرتار گاۓ جا رہا تھا۔ ” وس وس وے ڈھولنا....“ اف! یہ پنجابی کے کے بعض الفاظ کس قدر بھونڈے ہوتے ہیں۔ حمیدہ ایک ہی طریقے سے بیٹھے بیٹھے تھک کے بانس کے سہارے آگے کی طرف جھک گئی۔ بہتی ہوئی ہوا میں اس کا سرخ آنچل پھٹپھٹاۓ جا رہا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ اسے چمپئی رنگ کی ساری بہت سوٹ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ کے سب لڑکے کہا کرتے تھے اگر اس کی آنکھیں ذرا اور سیاہ اور ہونٹ ذرا اور پتلے ہوتے تو ایشیائی حسن کا بہترین نمونہ بن جاتی۔ یہ لڑکے عورتوں کے حسن کے کتنے قدردان ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہر سال کس قدر چھان بین اور تفصیلات کے مکمل جائزے کے بعد لڑکیوں کو خطاب دۓ جاتے تھے اور جب نوٹس بورڈ پر سالِ نو کے اعزازات کی فہرست لگتی تھی تو لڑکیاں کیسی بے نیازی اور خفگی کا اظہار کرتی ہوئی اس کی طرف نظر کۓ بغیر کوریڈور میں سے گزر جاتی تھیں۔ کمبخت سوچ سوچ کے کیسے مناسب نام ایجاد کرتے تھے۔ ”عمر خیام کی رباعی“، ”دہرہ ایکسپریس“، ”بال آف فائر“، "It’s Love I’m after"، ”نقوشِ چغتائی “، بلڈ بنک“۔

گاڑی دھچکے کھاتی چلی جارہی تھی۔ ”کیا بجا ہو گاکامریڈ؟“گاڑی کے پچھلے حصے میں سے منظور نے جمائی لے کر جتندر سے پوچھا۔
”ساڑھے چار۔ ابھی ہمیں چلتے ہوۓ ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا۔“ جتندر اپنا چار خانہ کوٹ گاڑی بان کے پاس پرال پر بچھاۓ، کہنی پر سر رکھے چپ چاپ پڑا تھا۔ شکنتلا بھی شاید سونے لگی تھی حالانکہ وہ بہت دیر سے اس کوشش میں مصروف تھی کہ بس ستاروں کو دیکھتی رہے۔ وہ اپنے پیر ذرا اور نہ سیکڑتی لیکن پاس کی جگہ کامریڈ کرتار نے گھیر رکھی تھی۔ شکنتلا بار بار خود کو یاد دلا رہی تھی کہ اس کی آنکھوں میں اتنی سی بھی نیند نہیں گھسنی چاہۓ۔ ذرا ویسی یعنی نا مناسب سی بات ہے، لیکن دھان کے کھیتوں اور گھنے باغوں کے اوپر سے آتی ہوئی ہوا میں کافی خنکی آ چلی تھی اور ستارے مدھم پڑتے جا رہے تھے۔ ” بس بس وے ڈھولنا۔“ اور اب کرتار سنگھ کا جی بے تحاشا چاہ رہا تھا کہ اپنا صافہ اتار کر ایک طرف ڈال دے اور ہوا میں ہاتھ پھیلا کے ایک ایسی زور دار انگڑائی لے کہ اس کی ساری تھکن، کوفت اور درماندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لۓ کہیں کھو جاۓ یا صرف چند لمحوں کے لۓ دوبارہ وہی انسان بن جاۓ جو کبھی جہلم کے سنہرے پانیوں میں چاند کو ہلکورے کھاتا دیکھ کر امرجیت کے ساتھ پنکج کی سی تانیں اڑایا کرتا تھا۔ یہ لمحے، جب کہ تاروں کی بھیگی بھیگی چھاؤں میں بیل گاڑی کچی سڑک پر گھسٹتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی تھی اور جب کہ سارے ساتھیوں کے دلوں میں ایک بیمار سا احسا س منڈلا رہا تھا کہ پارٹی میں کام کرنے کا آتشیں جوش و خروش کب کا بجھ چکا تھا۔

ہوا کا ایک بھاری سا جھونکا گاڑی کے اوپر سے گزر گیا اور صبیح الدین اور جتندر کے بال ہوا میں لہرانے لگے لیکن کرتار سنگھ لیڈیز کی موجودگی میں اپنا صافہ کیسے اتارتا؟ اس نے ایک لمبا سانس لے کر دواؤں کے بکس پرسر ٹیک دیا اور ستاروں کو تکنے لگا۔ ایک دفعہ شکنتلا نے اس سے کہا تھا کہ کامریڈ تم اپنی داڑھی کے باوجود کافی ڈیشنگ لگتے ہو اور یہ کہ اگر تم ائیر فورس میں چلے جاؤ تو اور بھی killing لگنے لگو۔اف یہ لڑکیاں!

”کامریڈ سگریٹ لو۔“ صبیح الدین نے اپنا سگریٹوں کا ڈبہ منظور کی طرف پھینک دیا۔ جتندر اور منظور نے ماچس کے اوپر جھک کے سگریٹ سلگاۓ اور پھر اپنے اپنے خیالوں میں کھو گۓ۔ صبیح الدین ہمیشہ عبد اللہ اور کریون اے پیا کرتا تھا۔ عبد اللہ اب تو ملتا بھی نہیں۔ صبیح الدین ویسے بھی بہت ہی رئیسانہ خیالات کا مالک تھا۔ اس کا باپ تو ایک بہت بڑا تعلقہ دار تھا۔ اس کا نام کتنا اسمارٹ اور خوبصورت تھا۔ صبیح الدین احمد.... مخدوم زادہ راجہ صبیح الدین احمد خاں! افوہ! اس کے پاس دو بڑی چمکدار موٹریں تھیں۔ ایک موریس اور ایک ڈی۔ کے۔ ڈبلیو لیکن کنگ جارجز سے نکلتے ہی آئی ایم ایس میں جانے کی بجاۓ وہ پارٹی کا ایک سر گرم ورکر بن گیا۔ حمیدہ ایسے آدمیوں کو بہت پسند کرتی تھی۔ آئیڈیل قسم کے لیکن اگر صبیح الدین اپنی موریس کے اسٹیئرنگ پر ایک بازو رکھ کے اور جھک کے اس سے کہتا کہ حمیدہ مجھے تمہاری سیاہ آنکھیں بہت اچھی لگتی ہیں، بہت ہی زیادہ.... تو یقیناًاسے ایک زور دار تھپڑ رسید کرتی۔ ”ہونہہ....دیز ایڈیٹس!“صابن کے رنگین بلبلے!

کرتار سنگھ خاموش تھا۔ سگریٹ کی گرمی نے منظور کی تھکن اور افسردگی ذرا دور کردی تھی۔ ہوا میں زیادہ ٹھنڈک آچکی تھی۔۔
جتندر نے اپنا چار خانہ کوٹ کندھوں پر ڈال لیا اور پرانی پرال میں ٹانگیں گھسا دیں۔ منظور کو کھانسی اٹھنے لگی۔ ”کامریڈ تم کو اتنے زیادہ سگریٹ نہیں پینے چاہئیں۔ “ شکنتلا نے ہمدردی کے ساتھ کہا۔ منظور نے اپنے مخصوص انداز سے زبان پر سے تمباکو کی پتی ہٹائی اور سگریٹ کی راکھ نیچے جھٹک کر دور باجرے کی لہراتی ہوئی بالیوں کے پرے افق کی سیاہ لکیر کو دیکھنے لگا۔.... یہ لڑکیاں! طلعت کیسی فکر مندی کے ساتھ کہا کرتا تھا۔ ”منظور! تمہیں سردیوں میں ٹانک استعمال کرنے چاہئیں۔ اسکاٹس ایملشن یا ریڈیو مالٹ یا آسٹو مالٹ.... طلعت، ایرانی بلی! پہلی مرتبہ جب بوٹ کلب Regatta میں ملی تھی تو اس نے ”اوہ گوش! تو آپ جرنلسٹ ہیں.... اور اوپر سے کمیونسٹ بھی۔ افوہ!“ اس انداز سے کہا تھاکہ ہیڈی لیماری بھی رشک کرتی۔ پھر مرمریں ستون کے پاس، پام کے پتوں کے نیچے بیٹھا دیکھ لیا تھا اور اس کی طرف آئی تھی....کتنی ہمدرد.... یقینا۔ اس نے پوچھا تھا:“
”ہیلو چائلڈ۔ ہاؤ از لائف؟“
Ask me another منظور نے کہا تھا۔
”اللہ! لیکن یہ تم سب کا آخر کیا ہوگا “۔ فکرِ جہاں کھا ۓ جا رہی ہے۔ مرے جا رہے ہیں۔ سچ مچ تمہارے چہروں پر تو نحوست ٹپکنے لگی ہے۔ کہاں کا پروگرام ہے؟ مسوری چلتے ہو؟ پر لطف سیزن رہے گا اب کی دفعہ۔ بنگال؟ ارے ہاں، بنگال۔ تو ٹھیک ہے۔ ہاں میری بہترین خواہشیں اور دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ پکچر چلو گے۔ ”جین آئر“ اس قدر غضب کی ہے گوش!“ پھر وہ چلی گئی۔ پیچھے کافی کی مشین کا ہلکا ہلکا شور اسی طرح جاری رہا اور دیواروں کی سبز روغنی سطح پر آنے جانے والوں کی پرچھائیں رقص کرتی رہیں اور پھر کلکتے آنے سے ایک روز قبل منظور نے سنا کہ وہ اصغر سے کہہ رہی تھی۔” ہونہہ.... منظور؟“
صبیح الدین ہلکے ہلکے گنگناتا رہا تھا۔ کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں، ستاروں کی شمعیں بجھا دیں۔ یقیناً بس کہنے کی دیر ہے۔ حمیدہ کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ بکھر کے رہ گئی۔ دور دریا کے پل پر گھڑگھڑاتی ہوئی ٹرین گزر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ روشنیوں کا عکس پانی میں نا چتا رہا، جیسے ایک بلوری میز پر رکھے ہوۓ چاندی کے شمع دان جگمگا اٹھیں۔ چاندی کے شمع دان اور انگوروں کی بیل سے چھپی ہوئی بالکونی، آئس کریم کے پیالے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور برقی پنکھے تیزی سے چل رہے تھے۔ پیانوں پر بیٹھی ہوئی وہ اپنے آپ کو کس طرح طربیہ کی ہیروئن سمجھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔

"Little Sir Echo how do you do Hell hello wont you come over nad dance with me."

پھر رافی اسٹیئرنگ پر ایک بازو رکھ کر رابرٹ ٹائیلر کے انداز سے کہتا تھا۔ ”حمیدہ تمہاری یہ سیاہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں.... بہت ہی زیادہ“ یہ بہت ہی زیادہ“ حمیدہ کے لۓ کیا نہ تھا؟ اور جب وہ سیدھی سڑک پر پینتالیس کی رفتار سے کار چھوڑ کر وہی "I dreamed well in marble halls" گانا شروع کردیتا تو حمیدہ یہ سوچ کر کتنی خوش ہوتی اور کچھ فخر محسو س ہوتا کہ رافے کی ماں موزارٹ کی ہم وطن ہے.... آسٹرین۔ اس کی نیلی چھلکتی ہوئی آنکھیں، اس کے نارنجی بال....اف اللہ! اور کسی گھنے ناشپاتی کے درخت کے ساۓ میں کار ٹھہر جاتی اور حمیدہ جام کا ڈبہ کھولتے ہوۓ سوچتی کہ بس میں بسکٹوں میں جام لگاتی ہوں گی۔ رافی انہیں کترتا رہے گا۔ اس کی بیوک پینتالیس کی رفتار پر چلتی جاۓ گی اور یہ چناروں سے گھری ہوئی سڑک کبھی ختم نہ ہوگی۔ لیکن ستاروں کی شمعیں آپ سے آپ بجھ گئیں۔ اندھیرا چھا گیا اور اندھیرے میں بیل گاڑی کی لالٹین کی بیمار روشنی ٹمٹما رہی تھی۔

ہو لالا لا ....دور کسی کھیت کے کنارے ایک کمزور سے کسان نے اپنی پوری طاقت سے چڑیوں کو ڈرانے کے لۓ ہانک لگائی۔ گاڑی بان اپنے مریل بیلوں کی دمیں مروڑ مروڑ کر انہیں گالیاں دے رہا تھا اور منظور کی کھانسی اب تک نہ رکی تھی۔۔

حمیدہ نے اوپر دیکھا۔ شبنم آلود دھندلکے میں چھپے ہوۓ افق پر ہلکی ہلکی سفیدی پھیلنی شروع ہو گئی تھی کہیں دور کی مسجد میں سے اذان کی تھرائی ہوئی صدا بلند ہو رہی تھی۔ حمیدہ سنبھل کر بیٹھ گئی اور غیر ارادی طور پر آنچل سے سر ڈھک لیا۔ جتندر اپنے چار خانہ کوٹ کا تکیہ بناۓ شاید لیٹن کوارٹر اور سو سو کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مائیرا، ڈونا مائیرا۔ حمیدہ کی ساری کے آنچل کی سرخ دھاریاں اس کی نیم وا آنکھوں کے سامنے لہرا رہی تھیں۔ یہ سرخیاں، یہ تپتے ہوۓ مہیب شعلے، جن کی جلتی ہوئی تیز روشنی آنکھوں میں گھس جاتی تھی اور جن کے لرزتے کپکپاتے سایوں کے پس منظر میں گرم گرم راکھ کے ڈھیر رات کے اڑتے ہوۓ سناٹے میں اس کے دل کو اپنے بوجھ سے دباۓ ڈال رہے تھے۔ مائیرا، اس کے نقرئی قہقہے، اس کا گٹار، اکھڑی ہوئی ریل کی پٹڑیاں اور ٹوٹے ہوۓ کھمبے۔ سانتا کلاؤڈ کا وہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن جس کے خوبصورت پلیٹ فارم پر ایک اتوار کو اس نے سرخ اور زرد گلاب کے پھول خریدے تھے۔ وہ لطیف سا، رنگین سا سکون جو اسے مائیرا کے تاریخی بالوں کے ڈھیر میں ان سرخ شگوفوں کو دیکھ کے حاصل ہوتا تھا۔ وہ تھک کے گٹار سبزے پر ایک طرف پھینک دیتی تھی اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ ساری کائنات سرخ گلاب اور ستارہ ہاۓ سحری کی کلیوں کا ایک بڑا سا ڈھیر ہے۔ لیکن تاکستانوں میں گھرے ہوۓ اس ریلوے اسٹیشن کے پرخچے اڑ گۓ اور طیارو ں کی گڑگراہٹ اور طیارہ شکن توپوں کی گرج میں شوبرٹ...."Rose monde" کی لہریں اور گٹار کی رسیلی گونج کہیں بہت دور فیڈ آؤٹ ہو گئی اور حمیدہ کا آنچل صبح کی ٹھنڈی ہوا میں پھٹپھٹاتا رہا، اس سرخ پرچم کی طرح جسے بلند رکھنے کے لۓ جدو جہد اور کشمکش کرتے کرتے وہ تھک چکا تھا، اکتا چکا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں۔

”سگریٹ لو بھئی۔ “ صبیح الدین نے منظور کو آواز دی۔
”اب کیا بج کیا ہوگا؟“ شکنتلا بہت دیر سے زیر لب بھیرو کا ”جاگو موہن پیارے“ گنگنا رہی تھی۔ حمیدہ سڑک کی ریکھائیں گن رہی تھی اور کرتار سنگھ سوچ رہا تھا کہ ”وس وس وے ڈھولنا“ پھر سے شروع کردے۔

گاؤں ابھی بہت دور تھا۔


لحاف_________عصمت چغتائی

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیوا روں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔

معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے نہیں جا رہی ہوں۔ نہ لحاف سے کسی قسم کا رومان جوڑا ہی جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں کمبل آرام دہ سہی، مگر اس کی پرچھائیں اتنی بھیانک نہیں ہوتی جب لحاف کی پرچھائیں دیوار پر ڈگمگا رہی ہو۔ یہ تب کا ذکر ہے جب میں چھوٹی سی تھی اور دن بھر بھائیوں اور ان کے دوستوں کے ساتھ مارکٹائی میں گزار دیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتاکہ میں کم بخت اتنی لڑاکا کیوں ہوں۔ اس عمر میں جب کہ میری اور بہنیں عاشق جمع کر رہی تھیں میں اپنے پراۓ ہر لڑکے اور لڑکی سے جو تم بیزار میں مشغول تھی۔

یہی وجہ تھی کہ اماں جب آگرہ جانے لگیں، تو ہفتے بھر کے لۓ مجھے اپنی منہ بولی بہن کے پاس چھوڑ گئیں۔ ان کے یہاں اماں خوب جانتی تھی کہ چوہے کا بچہ بھی نہیں اور میں کسی سے لڑ بھڑ نہ سکوں گی۔ سزا تو خوب تھی! ہاں تو اماں مجھے بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ وہی بیگم جان جن کا لحاف اب تک میرے ذہن میں گرم لوہے کے داغ کی طرح محفوظ ہے۔ یہ بیگم جان تھیں جن کے غریب ماں باپ نے نواب صاحب کو اسی لۓ داماد بنالیا کہ وہ پکی عمر کے تھے۔ مگر تھے نہایت نیک۔ کوئی رنڈی بازاری عورت ان کے یہاں نظر نہیں آئی۔ خود حاجی تھے اور بہتوں کو حج کرا چکے تھے۔ مگر انہیں ایک عجیب و غریب شوق تھا۔ لوگوں کو کبوتر پالنے کا شوق ہوتا ہے، بٹیرے لڑاتے ہیں، مرغ بازی کرتے ہیں۔ اس قسم کے واہیات کھیلوں سے نواب صاحب کو نفر ت تھی۔ ان کے یہاں تو بس طالب علم رہتے تھے۔ نوجوان گورے گورے پتلی کمروں کے لڑکے جن کا خرچ وہ خود برداشت کرتے تھے۔

مگر بیگم جان سے شادی کر کے تو وہ انہیں کل ساز و سامان کے ساتھ ہی گھر میں رکھ کر بھول گۓ اور وہ بے چاری دبلی پتلی نازک سی بیگم تنہائی کے غم میں گھلنے لگی۔
نہ جانے ان کی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں سے جب وہ پیدا ہونے کی غلطی کر چکی تھی، یا وہاں سے جب وہ ایک نواب بیگم بن کر آئیں اور چھپر کھٹ پر زندگی گزارنے لگیں۔ یا جب سے نواب صاحب کے یہاں لڑکوں کا زور بندھا۔ ان کے لۓ مرغن حلوے اور لذیذ کھانے جانے لگے اور بیگم جان دیوان خانے کے درزوں میں سے ان لچکتی کمروں والے لڑکوں کی چست پنڈلیاں اور معطر باریک شبنم کے کرتے دیکھ دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے لگیں۔
یا جب سے، جب وہ منتوں مرادوں سے ہار گئیں، چلے بندھے اور ٹوٹکے اور راتوں کی وظیفہ خوانی بھی چت ہو گئی۔ کہیں پتھر میں جونک لگتی ہے۔ نواب صاحب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوۓ۔ پھر بیگم جان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ علم کی طرف متوجہ ہوئیں لیکن یہاں بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ عشقیہ ناول اور جذباتی اشعار پڑھ کر اور بھی پستی چھاگئی۔ رات کی نیند بھی ہاتھ سے گئی اور بیگم جان جی جان چھوڑ کر بالکل ہی یاس و حسرت کی پوٹ بن گئیں۔ چولہے میں ڈالا ایسا کپڑا لتا۔ کپڑا پہنا جا تا ہے، کسی پر رعب گانٹھنے کے لۓ۔ اب نہ تو نواب صاحب کو فرصت کہ شبنمی کرتوتوں کو چھوڑ کر ذرا ادھر توجہ کریں اور نہ وہ انہیں آنے جانے دیتے۔ جب سے بیگم جان بیاہ کر آئی تھیں رشتہ دار آکر مہینوں رہتے اور چلے جاتے۔ مگر وہ بے چاری قید کی قید رہتیں۔

پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوۓ ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوۓ، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجۓ پھسل کر گۓ کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

گرمی جاڑے بیگم جان حیدر آبادی جالی کارگے کے کرتے پہنتیں۔ گہرے رنگ کے پاجامے اور سفید جھاگ سے کرتے اور پنکھا بھی چلتا ہو۔ پھر وہ ہلکی دلائی ضرور جسم پر ڈھکے رہتی تھیں۔ انہیں جاڑا بہت پسند تھا۔ جاڑے میں مجھے ان کے یہاں اچھامعلوم ہوتا۔ وہ ہلتی جلتی بہت کم تھیں۔ قالین پر لیٹی ہیں۔ پیٹھ کھج رہی ہے۔ خشک میوے چبا رہی ہیں اور بس۔ ربو سے دوسری ساری نوکرانیاں خار کھاتی تھیں۔ چڑیل بیگم جان کے ساتھ کھاتی، ساتھ اٹھتی بیٹھتی اور ماشاءاللہ ساتھ ہی سوتی تھی۔ ربو اور بیگم جان عا م جلوؤں اور مجموعوں کی دلچسپ گفتگو کا موضوع تھیں۔ جہاں ان دونوں کا ذکر آیا اور قہقہے اٹھے۔ یہ لوگ نہ جانے کیا کیا چٹکے غریب پر اڑاتے۔ مگر وہ دنیا میں کسی سے ملتی نہ تھیں۔ وہاں تو بس وہ تھیں اور ان کی کھجلی۔

میں نے کہا کہ اس وقت میں کافی چھوٹی تھی اور بیگم جان پر فدا۔ وہ مجھے بہت ہی پیار کرتی تھیں۔ اتفاق سے اماں آگرے گئیں۔ انہیں معلوم تھا کہ اکیلے گھر میں بھائیوں سے مار کٹائی ہوگی۔ ماری ماری پھروں گی۔ اس لۓ وہ ہفتے بھر کے لۓ بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ میں بھی خوش اور بیگم جان بھی خوش۔ آخر کو اماں کی بھابھی بنی ہوئی تھیں۔

سوال یہ اٹھا کہ میں سوؤں کہاں؟ قدرتی طور پر بیگم جان کے کمرے میں۔ لہذا میرے لۓ بھی ان کے چھپر کھٹ سے لگا کر چھوٹی سی پلنگڑی ڈال دی گئی۔ گیارہ بجے تک تو باتیں کرتے رہے، میں اور بیگم جان تاش کھیلتے رہے اور پھر میں سونے کے لۓ اپنے پلنگ پر چلی گئی اور جب میں سوئی تو ربو ویسی ہی بیٹھی ان کی پیٹھ کھجا رہی تھی۔ ”بھنگن کہیں کی۔“ میں نے سوچا۔ رات کو میری ایک دم سے آنکھ کھلی تو مجھے عجیب طرح کا ڈر لگنے لگا۔ کمرہ میں گھپ اندھیرا اور اس اندھیرے میں بیگم جان کا لحاف ایسے ہل رہا تھا جیسے اس میں ہاتھی بند ہو۔ بیگم جان.... میں نے ڈری ہوئی آواز نکالی، ہاتھ ہلنا بند ہو گیا۔ لحاف نیچے دب گیا۔
”کیا ہے، سو رہو....“ بیگم جان نے کہیں سے آواز دی۔
”ڈر لگ رہا ہے۔“ میں نے چوہے کی سی آواز سے کہا۔
”سو جاؤ۔ ڈر کی کیابات ہے۔ آیت الکرسی پڑھ لو۔“
”اچھا.... میں نے جلدی جلدی آیت الکرسی پڑھی مگر یَعْلَمُ مَا بَیْنَ پر دفعتاً آکر اٹک گئی۔ حالانکہ مجھے اس وقت پوری یاد تھی۔
”تمہارے پاس آجاؤں بیگم جان۔“
”نہیں بیٹی.... سو رہو....“ ذرا سختی سے کہا۔
اور پھر دو آدمیوں کے کھسر پھسرکرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہاۓ رے دوسرا کون.... میں اور بھی ڈری۔
”بیگم جان....چور تونہیں۔“
”سوجاؤ بیٹا.... کیسا چور....“ ربو کی آواز آئی۔ میں جلدی سے لحاف میں منہ ڈال کر سو گئی۔

صبح میرے ذہن میں رات کے خوفناک نظارے کا خیال بھی نہ رہا۔ میں ہمیشہ کی وہمی ہوں۔ رات کو ڈرنا۔ اٹھ اٹھ کر بھاگنا اور بڑبڑانا تو بچپن میں روز ہی ہوتا تھا۔ سب تو کہتے تھے کہ مجھ پر بھوتوں کا سایہ ہوگیا ہے۔ لہٰذا مجھے خیال بھی نہ رہا۔ صبح کو لحاف بالکل معصوم نظر آرہا تھا مگر دوسری رات میری آنکھ کھلی تو ربو اور بیگم جان میں کچھ جھگڑا بڑی خاموشی سے چھپڑ کھٹ پر ہی طے ہو رہا تھا اور مجھے خاک سمجھ نہ آیا۔ اور کیا فیصلہ ہوا، ربو ہچکیاں لے کر روئی پھر بلی کی طرح چڑ چڑ رکابی چاٹنے جیسی آوازیں آنے لگیں۔ اونہہ میں گھبرا کر سو گئی۔۔

ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اور بھی ان کا خون جلتا تھا کہ سب کے سب مزے سے مال اڑانے، عمدہ گھی نگلنے، جاڑوں کا ساز و سامان بنوانے آن مرتے اور باوجود نئی روئی کے لحاف کے بڑی سردی میں اکڑا کرتیں۔ ہر کروٹ پر لحاف نئی نئی صورتیں بنا کر دیوار پر سایہ ڈالتا۔ مگر کوئی بھی سایہ ایسا نہ تھا جو انہیں زندہ رکھنے کے لۓ کافی ہو۔ مگر کیوں جۓ پھر کوئی، زندگی! جان کی زندگی جو تھی، جینا بدا تھا نصیبوں میں، وہ پھر جینے لگیں اور خوب جئیں!

ربو نے انہیں نیچے گرتے گرتے سنبھال لیا۔ چپ پٹ دیکھتے دیکھتے ان کا سوکھا جسم ہرا ہونا شروع ہوا۔ گال چمک اٹھے اور حسن پھوٹ نکلا۔ ایک عجیب وغریب تیل کی مالش سے بیگم جان میں زندگی کی جھلک آئی۔ معاف کیجۓ، اس تیل کا نسخہ آپ کو بہترین سے بہترین رسالہ میں بھی نہ ملے گا۔

جب میں نے بیگم جان کو دیکھا تو وہ چالیس بیالیس کی ہوں گی۔ اُفوہ کس شان سے وہ مسند پر نیم دراز تھیں اور ربو ان کی پیٹھ سے لگی کمر دبا رہی تھی۔ ایک اودے رنگ کا دوشالہ ان کے پیروں پر پڑا تھا اور وہ مہارانوں کی طرح شاندار معلوم ہو رہی تھیں۔ مجھے ان کی شکل بے انتہا پسند تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ گھنٹوں بالکل پاس سے ان کی صورت دیکھا کروں۔ ان کی رنگت بالکل سفید تھی۔ نام کو سرخی کا ذکر نہیں اور بال سیاہ اور تیل میں ڈوبے رہتے تھے۔ میں نے آج تک ان کی مانگ ہی بگڑی نہ دیکھی۔ مجال ہے جو ایک بال ادھر ادھر ہو جاۓ۔ ان کی آنکھیں کالی تھیں اور ابرو پر کے زائد بال علیحدہ کردینے سے کمانیں سے کچھی رہتی تھیں۔ آنکھیں ذرا تنی ہوئی رہتی تھیں۔ بھاری بھاری پھولے پپوٹے موٹی موٹی آنکھیں۔ سب سے جو ان کے چہرے پر حیرت انگیز جاذبیت نظر چیز تھی، وہ ان کے ہونٹ تھے۔ عموماً وہ سرخی سے رنگے رہتے تھے۔ اوپر کے ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مونچھیں سی تھیں اور کنپٹیوں پر لمبے لمبے بال کبھی کبھی ان کا چہرہ دیکھتے دیکھتے عجیب سا لگنے لگتا تھا۔ کم عمر لڑکوں جیسا!....

ان کے جسم کی جلد بھی سفید اور چکنی تھی۔ معلوم ہوتا تھا، کسی نے کس کر ٹانکے لگا دۓ ہوں۔ عموماً وہ اپنی پنڈلیاں کھجانے کے لۓ کھولتیں، تو میں چپکے چپکے ان کی چمک دیکھا کرتی۔ ان کا قد بہت لمبا تھا اور پھر گوشت ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی لمبی چوڑی معلوم ہوتی تھیں لیکن بہت متناسب اور ڈھیلا ہوا جسم تھا۔ بڑے بڑے چکنے اور سفید ہاتھ اور سڈول کمر، تو ربو ان کی پیٹھ کھجایا کرتی تھی۔ یعنی گھنٹوں ان کی پیٹھ کھجاتی۔ پیٹھ کھجوانا بھی زندگی کی ضروریات میں سے تھا بلکہ شاید ضرورت زندگی سے بھی زیادہ۔

ربو کو گھر کا اور کوئی کام نہ تھا بس وہ سارے وقت ان کے چھپر کھٹ پر چڑھی کبھی پیر، کبھی سر اور کبھی جسم کے دوسرے حصے کو دبایا کرتی تھی۔ کبھی تو میرا دل ہول اٹھتا تھا جب دیکھو ربو کچھ نہ کچھ دبا رہی ہے، یا مالش کر رہی ہے۔ کوئی دوسرا ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔ میں اپنا کہتی ہوں، کوئی اتنا چھوۓ بھی تو میرا جسم سڑ گل کے ختم ہو جاۓ۔
اور پھر یہ روز روز کی مالش کافی نہیں تھی۔ جس روز بیگم جان نہاتیں۔ یا اللہ بس دو گھنٹہ پہلے سے تیل اور خوشبودار ابٹنوں کی مالش شروع ہو جاتی اور اتنی ہوتی کہ میرا تو تخیل سے ہی دل ٹوٹ جاتا۔ کمرے کے دروازے بند کرکے انگیٹھیاں سلگتیں اور چلتا مالش کا دور اور عموماً صرف ربو ہی رہتی۔ باقی کی نوکرانیاں بڑبڑاتی دروازہ پر سے ہی ضرورت کی چیزیں دیتی جاتیں۔

بات یہ بھی تھی کہ بیگم جان کو کھجلی کا مرض تھا۔ بے چاری کو ایسی کھجلی ہوتی تھی اور ہزاروں تیل اور ابٹن ملے جاتے تھے مگر کھجلی تھی کہ قائم۔ ڈاکٹر حکیم کہتے کچھ بھی نہیں۔ جسم صاف چٹ پڑا ہے۔ ہاں کوئی جلد اندر بیماری ہو تو خیر۔ نہیں بھئی یہ ڈاکٹر تو موۓ ہیں پاگل۔ کوئی آپ کے دشمنوں کو مرض ہے۔ اللہ رکھے خون میں گرمی ہے۔ ربو مسکرا کر کہتی اور مہین مہین نظروں سے بیگم جان کو گھورتی۔ اوہ یہ ربو.... جتنی یہ بیگم جان گوری، اتنی ہی یہ کالی تھی۔ جتنی یہ بیگم جان سفید تھیں، اتنی ہی یہ سرخ۔ بس جیسے تپا ہوا لوہا۔ ہلکے ہلکے چیچک کے داغ۔ گٹھا ہوا ٹھوس جسم۔ پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوۓ ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوۓ، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجۓ پھسل کر گۓ کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

آج ربو اپنے بیٹے سے ملنے گئی ہوئی تھی۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ بہت کچھ بیگم جان نے کیا۔ اسے دکان کرائی،گاؤں میں لگایا مگر وہ کسی طرح مانتا ہی نہ تھا۔ نواب صاحب کے یہاں کچھ دن رہا۔ خوب جوڑے بھاگے بھی بنے۔ نہ جانے کیوں ایسا بھاگا کہ ربو سے ملنے بھی نہ آتا تھا۔ لہٰذا ربو ہی اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں اس سے ملنے گئی تھی۔ بیگم جان نہ جانے دیتی مگر ربو بھی مجبور ہو گئی۔

سارا دان بیگم جان پریشان رہیں۔ اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹتا رہا۔ کسی کا چھونا بھی انہیں نہ بھاتا تھا۔ انہوں نے کھانا بھی نہ کھایا اور سارا دن اداس پڑی رہیں۔

”میں کھجا دوں سچ کہتی ہوں“۔ میں نے بڑے شوق سے تاش کے پتے بانٹتے ہوۓ کہا۔ بیگم جان مجھے غور سے دیکھنے لگیں۔

میں تھوڑی دیر کھجاتی رہی اور بیگم جان چپکی لیٹی رہیں۔ دوسرے دن ربو کو آنا تھا مگر وہ آج بھی غائب تھی۔ بیگم جان کا مزاج چڑچڑا ہوتا گیا۔ چاۓ پی پی کر انہوں نے سر میں درد کرلیا۔

میں پھر کھجانے لگی، ان کی پیٹھ.... چکنی میز کی تختی جیسی پیٹھ۔ میں ہولے ہولے کھجاتی رہی۔ ان کا کام کرکے کیسی خوش ہوتی تھی۔
”ذرا زور سے کھجاؤ.... بند کھول دو“ بیگم جان بولیں۔
ادھر.... اے ہے ذرا شانے سے۔ نیچے.... ہاں.... وہاں بھئی واہ.... ہا.... ہا.... وہ سرور میں ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لے کر اطمینان کا اظہار کرنے لگیں۔
”اور ادھر.... حالانکہ بیگم جان کا ہاتھ خوب جا سکتا تھا مگر وہ مجھ سے ہی کھجوا رہی تھیں اور مجھے الٹا فخر ہو رہا تھا“ یہاں .... اوئی.... تم تو گدگدی کرتی ہو.... واہ....“ وہ ہنسیں۔ میں باتیں بھی کر رہی تھی اور کھجا بھی رہی تھی۔
تمہیں کل بازار بھیجوں گی....کیا لوگی.... وہی سوتی جاگتی گڑیا۔
نہیں بیگم جان.... میں تو گڑیا نہیں لیتی.... کیا بچہ ہوں اب میں....“
بچہ نہیں تو کیا بوڑھی ہو گئی.... وہ ہنسیں.... گڑیا نہیں تو ببوا لینا....کپڑے پہنانا خود۔ میں دوں گی تمہیں بہت سے کپڑے سنا....“ انہوں نے کروٹ لی۔
”اچھا“ میں نے جواب دیا۔
”ادھر“۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر جہاں کجھلی ہو رہی تھی، رکھ دیا۔ جہاں انہیں کھجلی معلوم ہوتی وہاں رکھ دیتی اور میں بے خیالی میں ببوے کے دھیان میں ڈوبی مشین کی طرح کھجاتی رہی اور وہ متواتر باتیں کرتی رہیں۔
”سنو تو....تمہاری فراکیں کم ہو گئی ہیں۔ کل درزی کو دے دوں گی کہ نئی سی لاۓ۔ تمہاری اماں کپڑے دے گئی ہیں۔“
”وہ لال کپڑے کی نہیں بنواؤں گی.... چماروں جیسی ہے۔“ میں بکواس کر رہی تھی اور میرا ہاتھ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم بھی نہ ہوا۔ بیگم جان تو چت لیٹی تھیں.... ارے.... میں نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔
”اوئی لڑکی....دیکھ کر نہیں کھجاتی.... میری پسلیاں نوچے ڈالتی ہے۔“ بیگم جان شرارت سے مسکرائیں اور میں جھینپ گئی۔
ادھر آکر میرے پاس لیٹ جا....“ انہوں نے مجھے بازوپر سر رکھ کر لٹا لیا۔
اے ہے کتنی سوکھ رہی ہے۔ پسلیاں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے پسلیاں گننا شروع کردیں۔
”اوں....“ میں منمنائی۔
”اوئی.... تو کیا میں کھا جاؤں گی....کیسا تنگ سویٹر بُنا ہے!“ گرم بنیان بھی نہیں پہنا تم نے.... میں کلبلانے لگی۔
”کتنی پسلیاں ہوتی ہیں....“ انہوں نے بات بدلی۔
”ایک طرف نو اور ایک طرف دس“ میں نے اسکول میں یاد کی ہوئی ہائی جین کی مدد لی۔ وہ بھی اوٹ پٹانگ۔
”ہٹالو ہاتھ....ہاں ایک....دو....تین....“
میرا دل چاہا کس طرح بھاگوں.... اور انہوں نے زور سے بھینچا۔
”اوں.... “ میں مچل گئی.... بیگم جان زور زور سے ہنسنے لگیں۔ اب بھی جب کبھی میں ان کا اس وقت کا چہرہ یاد کرتی ہوں تو دل گھبرانے لگتا ہے۔ ان کی آنکھوں کے پپوٹے اور وزنی ہوگۓ۔ اوپر کے ہونٹ پر سیاہی گھری ہوئی تھی۔ باوجود سردی کے پسینے کی ننھی ننھی بوندیں ہونٹوں پر اور ناک پر چمک رہی تھیں۔ اس کے ہاتھ یخ ٹھنڈے تھے۔ مگر نرم جیسے ان پر کھال اتر گئی ہو۔ انہوں نے شال اتار دی اور کارگے کے مہین کرتے میں ان کا جسم آٹے کی لونی کی طرح چمک رہا تھا۔ بھاری جڑاؤ سونے کے گرین بٹن گربیان کی ایک طرف جھول رہے تھے۔ شام ہو گئی تھی اور کمرے میں اندھیرا گھٹ رہا تھا۔ مجھے ایک نا معلوم ڈر سے وحشت سی ہونے لگی۔ بیگم جان کی گہری گہری آنکھیں۔ میں رونے لگی دل میں۔ وہ مجھے ایک مٹی کے کھلونے کی طرح بھینچ رہی تھیں۔ ان کے گرم گرم جسم سے میرا دل ہولانے لگا مگر ان پر تو جیسے بھتنا سوار تھا اور میرے دماغ کا یہ حال کہ نہ چیخا جاۓ اور نہ رہ سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پست ہوکر نڈھال لیٹ گئیں۔ ان کا چہرہ پھیکا اور بد رونق ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ میں سمجھی کہ اب مریں یہ اور وہاں سے اٹھ کر سرپٹ بھاگی باہر۔

شکر ہے کہ ربو رات کو آگئی اور میں ڈری ہوئی جلدی سے لحاف اوڑھ کر سو گئی مگر نیند کہاں۔ چپ گھنٹوں پڑی رہی۔

اماں کسی طرح آہی نہیں چکی تھیں۔ بیگم جان سے مجھے ایسا ڈر لگتا تھا کہ میں سار ا دن ماماؤں کے پاس بیٹھی رہی مگر ان کے کمرے میں قدم رکھتے ہی دم نکلتا تھا اور کہتی کس سے اور کہتی ہی کیا کہ بیگم جان سے ڈر لگتا ہے۔ بیگم جان جو میرے اوپر جان چھڑکتی تھیں۔

آج ربو میں اور بیگم جان میں پھر ان بن ہوگئی.... میری قسمت کی خرابی کہیے یا کچھ اور مجھے ان دونوں کی ان بن سے ڈر لگا۔ کیونکہ رات ہی بیگم جان کو خیال آیا کہ میں باہر سردی میں گھوم رہی ہوں اور مروں گی نمونیے میں۔
”لڑکی کیا میرا سر منڈواۓ گی۔ جو کچھ ہوا ہو گیا، تو اور آفت آۓ گی۔“
انہوں نے نے مجھے پاس بٹھالیا۔ وہ خود منہ ہاتھ سلفچی میں دھو رہی تھیں، چاۓ تپائی پر رکھی تھی۔
”چاۓ تو بناؤ.... ایک پیالی مجھے بھی دینا.... وہ تولیے سے منہ خشک کر کے بولیں ذرا کپڑے بدل لوں۔“
وہ کپڑے بدلتی رہیں اور میں چاۓ پیتی رہی۔ بیگم جان نائن سے پیٹھ ملواتے وقت اگر مجھے کسی کام سے بلواتیں، تو میں گردن موڑے جاتی اور واپس بھاگ آتی۔ اب جو انہوں نے کپڑے بدلے، تو میرا دل الٹنے لگا۔ منہ موڑے میں چاۓ پیتی رہی۔
”ہاۓ اماں.... میرے دل نے بے کسی سے پکارا.... آخر ایسا بھائیوں سے کیا لڑتی ہوں جو تم میری مصیبت.... اماں کو ہمیشہ سے میرا لڑکوں کے ساتھ کھلینا ناپسند ہے۔ کہو بھلا لڑکے کیا شیر چیتے ہیں جو نگل جائیں گے ان کی لاڈلی کو؛ اور لڑکے بھی کون؟ خود بھائی اور دو چار سڑے سڑاۓ۔ ان ذرا ذرا سے ان کے دوست مگر نہیں، وہ تو عورت ذات کو سات سالوں میں رکھنے کی قائل اور یہاں بیگم جان کی وہ دہشت کہ دنیا بھر کے غنڈوں سے نہیں۔ بس چلتا، سو اس وقت سڑک پر بھاگ جاتی، پھر وہاں نہ ٹکتی مگر لاچار تھی۔ مجبور کلیجہ پر پتھر رکھے بیٹھی رہی۔“

کپڑے بدل کر سولہ سنگھار ہوۓ اور گرم گرم خوشبوؤں کے عطر نے اور بھی انہیں انگارا بنا دیا اور وہ چلیں مجھ پر لاڈ اتارنے۔
”گھر جاؤں گی....“ میں نے ان کی ہر راۓ کے جواب میں کہا اور رونے لگی۔ ”میرے پاس تو آؤ.... میں تمہیں بازار لے چلوں گی.... سنو تو....“۔
مگر میں کلی کی طرح پھسل گئی۔ سارے کھلونے، مٹھائیاں ایک طرف اور گھر جانے کی رٹ ایک طرف۔
”وہاں بھیا ماریں گے .... چڑیل....“ انہوں نے پیار سے مجھے تھپڑ لگایا۔
”پڑیں ماریں بھیا.... میں نے سوچا اور روٹھی اکڑتی رہی۔ ”کچی امیاں کھٹی ہوتی ہیں بیگم جان....“ جلی کٹی ربو نے راۓ دی اور پھر اس کے بعد بیگم جان کو دورہ پڑ گیا۔ سونے کا ہار جو وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے پہنا رہی تھیں، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ مہین جالی کا دوپٹہ تار تار اور وہ مانگ جو میں نے کبھی بگڑی نہ دیکھی تھی، جھاڑ جھنکاڑ ہو گئی۔
”اوہ .... اوہ اوہ اوہ....“ وہ جھٹکی لے لے کر چلانے لگیں۔ میں رپٹی باہر۔
بڑے جتنوں سے بیگم جان کو ہوش آیا۔ جب میں سونے کے لۓ کمرے میں دبے پیر جا کر جھانکی، تو ربو ان کی کمر سے لگی جسم دبا رہی تھی۔
”جوتی اتار دو.... اس نے اس کی پسلیاں کھجاتے ہوۓ کہا اور میں چوہیا کی طرح لحاف میں دبک گئی۔“
سر سر پھٹ کج.... بیگم جان کا لحاف اندھیرے میں پھر ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا۔
”اللہ آں....“ میں نے مری ہوئی آواز نکالی۔ لحاف میں ہاتھی چھلکا اور بیٹھ گیا۔ میں بھی چپ ہوگئی۔ ہاتھی نے پھر لوٹ مچائی۔ میرا رواں رواں کانپا۔ آج میں نے دل میں ٹھان لیا کہ ضرور ہمت کرکے سرہانے لگا ہوا بلب جلا دوں۔ ہاتھ پھڑپھڑا رہا تھا اور جیسے اکڑوں بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چپڑ چپڑ کچھ کھانے کی آواز آرہی تھیں۔ جیسے کوئی مزے دار چٹنی چکھ رہا ہو۔ اب میں سمجھی! یہ بیگم جان نے آج کچھ نہیں کھایا اور ربو مردی تو ہے سدا کی چٹو۔ ضرور یہ تر مال اڑا رہی ہے۔ میں نے نتھنے پھلا کر سوں سوں ہوا کو سونگھا۔ سواۓ عطر صندل اور حنا کی گرم گرم خوشبو کے اور کچھ محسوس نہ ہوا۔
لحاف پھر امنڈنا شروع ہو ا۔ میں نے بہیترا چاہا کہ چپکی پڑی رہوں۔ مگر اس لحاف نے تو ایسی عجیب عجیب شکلیں بنانی شروع کیں کہ میں ڈر گئی۔ معلوم ہوتا تھا غوں غوں کرکے کوئی بڑا سا مینڈک پھول رہا ہے اور اب اچھل کر میرے اوپر آیا۔
آ....ن....اماں.... میں ہمت کرکے گنگنائی۔ مگر وہاں کچھ شنوائی نہ ہوئی اور لحاف میرے دماغ میں گھس کر پھولنا شروع ہوا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پلنگ کے دوسری طرف پیر اتارے اور ٹٹول ٹٹول کر بجلی کا بٹن دبایا۔ ہاتھی نے لحاف کے نیچے ایک قلابازی لگائی اور پچک گیا۔ قلابازی لگانے میں لحاف کا کونہ فٹ بھر اٹھا۔
اللہ! میں غڑاپ سے اپنے بچھونے میں آئی۔
کیوں نہ رکھوں میں تبرک کی طرح
غم ملا ھے عشق کی درگاہ سے
 

Friday, 24 February 2012

زندگی میں رشتوں کو نبھانا اتنا ہی مشکل ہے جیسے بارش کی بوندوں کو ہتھیلی پر تا دیر سنبھال رکھنا ۔
پیاس، صحرا، سراب، سناٹا
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے

بعض دفعہ چہرے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے
کسی ایسی آواز کی جس میں ہمدردی ہو جو آپ کے وجود کے تمام ناسورورں کو نشتر کی طرح کاٹ پھینکے اور پھر بہت نرمی سے ہرگھاؤ کو سی دے-

عمیرہ احمد