ھماری
نئی نسلیں اس لحاظ سے بڑی بدقسمت ھیں کہ گھروں کے اندر کبھی قرآن کی آواز
اُن کے کانوں میں نہیں پڑتی ، اور نہ وہ اپنی آنکھوں سے گھر کے لوگوں کو
کبھی نماز پڑھتے ھوئے دیکھتے ھیں ۔۔۔۔
ھم اِس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ
بچپن میں ھم اپنے گھروں میں قرآن کی آواز سنتے تھے اور اپنے بڑوں کو نماز
پڑھتے دیکھتے تھے ۔۔۔۔۔ ھمارے گرد و پیش بہرحال کچھ نہ کچھ دین کے آثار
باقی تھے ۔۔۔۔۔
لیکن موجودہ نسل کی یہ بدقسمتی انتہا
کو پہنچ گئی ھے کہ گھروں کی جس فضا میں وہ پرورش پا رھی ھے ، اُس میں نہ
قرآن کی آواز کبھی گونجتی ھے ، نہ نماز کا منظر کبھی سامنے آتا ھے ۔۔۔۔۔
اگر ھمارے گھروں کا یہی حال رھا اور نسلیں اسی طرح غلط تربیت حاصل کرتی
رہیں ، تو جب زندگی کی باگ ڈور ان کے ھاتھوں میں آئے گی ، اُس وقت شاید
اسلام کا نام بھی باقی نہ رہ سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیّد ابوالاعلٰی مودودی رح ، دین اور خواتین )
ھم اِس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ بچپن میں ھم اپنے گھروں میں قرآن کی آواز سنتے تھے اور اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے دیکھتے تھے ۔۔۔۔۔ ھمارے گرد و پیش بہرحال کچھ نہ کچھ دین کے آثار باقی تھے ۔۔۔۔۔
لیکن موجودہ نسل کی یہ بدقسمتی انتہا کو پہنچ گئی ھے کہ گھروں کی جس فضا میں وہ پرورش پا رھی ھے ، اُس میں نہ قرآن کی آواز کبھی گونجتی ھے ، نہ نماز کا منظر کبھی سامنے آتا ھے ۔۔۔۔۔
اگر ھمارے گھروں کا یہی حال رھا اور نسلیں اسی طرح غلط تربیت حاصل کرتی رہیں ، تو جب زندگی کی باگ ڈور ان کے ھاتھوں میں آئے گی ، اُس وقت شاید اسلام کا نام بھی باقی نہ رہ سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیّد ابوالاعلٰی مودودی رح ، دین اور خواتین )






