ایک لا محدود نظر آنے والی کائینات۔۔۔ جس
کی حدود صرف اس کو بنانے والا ہی جانتا ہے۔۔۔ جس میں ۔۔ ایک انتحائی چھوٹا
نظام شمسی ۔۔۔ اس نظام شمسی میں ایک انتحائی چھوٹا سیارہ ۔۔۔زمین ۔۔۔۔ اس
زمین پر ایک چھوٹی سی مخلوق انسان ۔۔۔۔ اور اس انسان کی کائینات جتنی بڑی
انا اور خود پسندی ۔۔۔۔۔
بے شک انسان خسارے میں ہے۔۔۔ جبتک وہ اپنی حقیقت نہیں جانتا کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا اس لامحدود نظر آنے والی کائینات برابر ہے۔۔۔
پھل دار درخت کا سایہ بھی بڑا اور پھیلا
ہوا ہوتا ہے جبکہ وہ درخت جس پر پھل نہیں لگتے گو کہ قد میں کتنا ہی بڑا
نظر آئے ۔۔۔ مگر اس کا سایہ تنگ اور چھوٹا ہوتا ہے۔۔ بس یہی فرق ہے صاحب
ظرف اور اور کم ظرف کا۔۔۔ ظرف والا چاہے معاشی اور معاشرتی لحاظ سے کتنا ہی
چھوٹا نظر آئے لیکن تم دیکھو گے کہ وہ سخی ، رحمدل اور طاقت رکھتے ہوئے
بھی معاف کرنے والا ہو گا۔۔۔ جبکہ جو کم ظرف ہو ۔۔۔وہ چا ہے معاشی اور
معاشرتی لحاظ سے کتنا ہے بڑا کیوں نہ ہو وہ تند خو ،کمینہ اور کینہ پرور ہو
گا۔۔۔
انسان اپنی فطرت نہیں چھپا سکتا ۔۔۔ اور کم
ظرف تو بالکل ہی نہیں ۔۔۔ تم دیکھو گے کہ شاید ظرف والا تم دیر سے پہچان
سکو لیکن کم ظرف فوراً خود کو ظاہر کر دے گا کیونکہ خالی گھڑاہلکی سی ضرب
لگنے پر آواز دیتا ہے جبکہ جو بھڑا ہو وہ ضرب کو پی جاتا ہے اور جب آواز
بھی نکلتی ہے تو وہ اس طرح کی کھوکھلی نہیں ہوتی جیسی خالی کی ہوتی ہے۔
No comments:
Post a Comment